
ایک بے قرار دنیا میں قرار
خلاصہ
تناؤ اور زیادہ کام بہت سے لوگوں کو ان کے وقت سے پہلے ہی قبر کے پاس لے آتا ہے۔ لیکن تخلیق کے وقت خُدا نے ذہنی تناؤ کے مسئلے کےحل کے لئے ایک علاج ترتیب دیا یعنی آرام کا دن۔ اُس مُقدس دن کو ایک برکت کے طور پر ترتیب دیا گیا تھا تاکہ بنی نوع اِنسان اپنے کام سے آرام کر سکیں اور خُدا کے ساتھ وقت گزاریں۔ افسوس کے ساتھ، اگرچہ خُدا نے لوگوں کو اُسے یاد رکھنے کا حکم دیا تھا لیکن زیادہ تر اس خاص دن کے متعلق بھول چکے ہیں اور یہاں تک کہ بہتیرے خالق کو بھی بھول چکے ہیں جس نے انہیں یہ دیا تھا۔
خلاصہ
Tract
ناشر
Sharing Hope Publications
میں دستیاب
47 زبانیں
صفحات
6
میتا دوران مر چکی تھی۔ ایک 24 سالہ متحرک انڈونیشین کاپی رائٹر اچانک اپنی میز پر گر گئی تھی۔ کیا ہوا تھا؟
میتا ایک اشتہاری ایجنسی میں کام کرتی تھی، جہاں توقعات زیادہ تھیں اور کام کا بوجھ بھی بہت زیادہ تھا۔ اپنی موت سے ذرا پہلے، اُس نے سوشل میڈیا پر اپنی تھکن کے بارے میں تبصرہ کیا:”آج رات، میں مسلسل آٹھویں روز دفتر کی چابیاں گھرلے کرجاؤں گی ۔۔۔۔۔میری کوئی زندگی نہیں ہے۔“
وہ کیفین والے مشروب کریٹنگ ڈائینگ پر بہت زیادہ انحصار کرتی تھی، جو ریڈ بل کا ایشیائی انداز ہے۔ اس کے آن لائن اظہار خیال کی آخری سطر یہ تھی،،” کام کرنے کے 30 گھنٹے اور ابھی بھی جاری۔“ اس کے بعد وہ اپنی میز پر گر گئی اورپھر کبھی نہیں اٹھی۔
کیا ہوا؟ میتا کام کی زیادتی سے مر گئی۔
آج، ہم میں سے بہت سے لوگوں کے مصروف شیڈول ہیں۔ معاشرہ ہمیں زیادہ کام کرنے، زیادہ کمانے اور زیادہ خریداری کرنے کے لئے زور دیتا ہے۔ ہم تناؤ، بےخوابی اور ذہنی کرب کا شکار ہیں۔
ہو سکتا ہے ہم میتا دوران کی طرح اپنی جان نہ لے رہے ہوں، لیکن زندگی ایک بھاری بوجھ ہوسکتی ہے۔ کیا یہی ہے جس کا ارادہ خُدا نے ہمارے لئے کیا؟ وہ اطمینان دینے والا ہے۔ جب ہم خود سے زیادہ کام کرتے ہیں تو کیا ہم مطمعن محسوس کرتے ہیں؟ یقیناً نہیں!
اگر ہم تھکن سے مغلوب ہیں، تو یہ ضرور ہے کہ ہم کوئی ایسی چیز بھول رہے ہیں جسے خدا چاہتا ہے کہ ہم یاد رکھیں۔ آئیے دریافت کریں کہ اس نے آرام کے بارے میں کیا کہا ہے۔
”وقفہ“ بٹن کو دبانا
خدا بڑا مہربان اور رحیم ہے۔ وہ جانتا تھا کہ انسانوں کو سیل فون یا لیپ ٹاپ کمپیوٹر کی طرح اپنی جسمانی، ذہنی اور روحانی توانائی کو دوبارہ چارج کرنے کے لیے وقت درکار ہوتا ہے۔ لہذا، حضرت موسیٰ نےخُدا کا حکم درج کیا:
یاد کر کے تو سبت کا دن پاک ماننا۔ چھ دن تک تو محنت کر کے اپنا سارا کام کاج کرنا۔ لیکن ساتواں دن خداوند تیرے خدا کا سبت ہے اس میں تو کوئی کام نہ کرے (بائبل کے پہلے حصے سے، جسے تورات بھی کہا جاتا ہے: خروج (10-8:20)۔
خدا کی یہ لا تبدیل شریعت ہمیں ساتویں دن کو یاد رکھنے کو کہتی ہے۔ دنیا کی بہت سی زبانوں کےمطابق، آرام کے لئے وقف اس دن کوجسے "سبت" کہا جاتا ہے۔ خدا نے ہمیں اسے یاد رکھنے کا حکم کیوں دیا؟ کیونکہ وہ جانتا ہے کہ بھول جانا آدم سے شروع ہوکر بنی نوع انسان کے ساتھ ایک مسلسل مسئلہ رہا ہے۔ ہمیں خدا کے احکام کو فراموش نہیں کرنا چاہئے کیونکہ جب ہم اسے اور اس کے احکام کو یاد رکھیں گے تو ہم سیدھی راہ پر چلتے رہیں گے۔
لیکن سبت کیوں خاص ہے؟ خُدا یوں فرماتا ہے:
کیونکہ خداوند نے چھ دن میں آسمان اور زمین اور سمندر اور جو کچھ ان میں ہے وہ سب بنایا اور ساتویں دن آرام کیا۔ اس لئے خُداوند نے سبت کے دن کو برکت دی اور اسے مُقدّس ٹھہرایا۔ (خروج 11:20)
سبت کا دن ایک اہم یاد دہانی ہے کہ خدا خالق ہے۔ کچھ لوگ اعتراض کرتے ہیں کہ چونکہ خداتھکتانہیں، اس لیے اسے ساتویں دن آرام کرنے کی ضرورت نہیں پڑے گی۔ لیکن خدا نے تھکن سے آرام نہیں کیا۔ اس نے اپنے تخلیقی کام کو روک دیا تاکہ وہ ہمارے لیے آرام کرنے کا مقدس وقت مقرر کر سکے۔
خدا نے دیکھا کہ آرام کا دن بنی نوع انسان کے لیے اچھا ہے۔ اس نے ساتویں دن کو سبت بنایا، جس کا مطلب ہے توقف یا وقفہ۔ اس طرح، ہر ہفتے کا ساتواں دن”وقفہ“ کے بٹن کو دبانے کے لیے ایک خاص دن ہے۔ ہمیں اس کی یاد اور عبادت کرنے کے لیے پورے دن کام اور دنیاوی سرگرمیوں سے باز رہنا چاہیے۔
کیا یہ اچھا نہیں ہوگا اگر آپ کا باس یا آپ کا پروفیسر آپ کو مزید آرام کرنے کا حکم دے؟ پھر یہ بھی بالکل ویسا ہی ہے جیسا خُدا نے حکم دیا ہے! خُدا کی تعریف! بے شک وہ نہایت رحیم ہے!
خدا کے دن کو مقدس رکھنا
سبت کا دن دنیا کے تمام لوگوں کے لیے ایک عالمگیر مقدس دن ہے۔ یہودیوں، عیسائیوں، مسلمانوں، بدھ متوں یا ہندوؤں کے وجود میں آنے سے بہت پہلے ایک حقیقی خالق خُدا پر ایمان رکھنے والے توحید پرست مومنوں نے اسے مانا۔ درحقیقت، یہ تمام نوع انسانی کو دیا گیا تھا جب دنیا کی تخلیق ہوئی تھی۔ آدم اور حوا نے سبت کا دن یاد رکھا، اور خدا نے ہمیں بھی کبھی اس بات کی اجازت نہیں دی کہ ہم وہ بھول جائیں جو اس نے ہمیں یاد رکھنے کے لئے کہا ہے۔
بدقسمتی سے، سبت کے دن کو اکثر بھلا دیا گیا ہے۔ نبیوں نے قدیم یہودیوں کو خبردار کیا کہ اگر وہ سبت کو بھول گئے تو خدا ان پر تباہی لائے گا۔ اُنہوں نے انتباہ پر دھیان نہیں دیا، اِس لیے یروشلم تباہ ہو گیا، اور اُن کے خاندان اسیری میں چلے گئے۔ مسیحی بھی خُدا کے احکام کی مخالفت میں اپنے مقدس دن کو اتوار میں بدل کر سبت کو بھول گئے۔ مسلمان جمعہ کے دن نماز پڑھتے ہیں لیکن یہ بھول گئے ہیں کہ ہمیں خالق کی مکمل اطاعت میں رہنے کے لیے ساتویں دن آرام کرنا چاہیے۔
ایسا کیوں لگتا ہے کہ ہماری پوری دنیا اس اہم دن کو بھول رہی ہے؟ کیا اس وسیع پیمانے پر بھولنے کی کوئی اور بھیانک وجہ ہے؟
یسوع مسیح (جسے عیسیٰ المسیح بھی کہا جاتا ہے) نے ہمیں ایک آنے والی عالمی طاقت کے بارے میں خبردار کیا جسے ابلیس (شیطان) ہمارے ذہنوں کو ہمارے خالق سے ہٹانے کے لیے استعمال کرے گا۔ لاکھوں لوگ جھوٹے سبت کے دن عبادت کرنے کے لیے دھوکہ کھائیں گے۔ اگر شیطان ہمیں خالق کے دن کو بھولنے پر مجبور کر سکتا ہے، تو وہ امید کرتا ہے کہ ہم خود خالق کو بھی بھول جائیں گے۔ تاہم، جب ہم سچے سبت کو مانتے ہیں، تو ہم اپنے خالق کے لیے اپنی وفاداری ظاہر کرتے ہیں اور آرام، راحت اور امن کے تحفے سے لطف اندوز ہوتے ہیں۔
خدا کے آرام میں داخل ھونا
حضرت موسیٰ نے لکھاہے کہ "خُدا نے ساتویں دن کو برکت دی“ (پیدایش 3:2)۔ کیا آپ تھکے ہوئے ہیں؟ سبت میں برکتیں ہیں!
میتا دوران، انڈونیشیا کی کاپی رائٹر، زیادہ کام کرنے سے مر گئی — لیکن آپ کو ایسا کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ خُدا آپ کو دعوت دیتا ہے کہ آپ ہر ہفتے اپنی پوری مشقت سے آرام کریں اور سبت کے دن کی برکات کا تجربہ کریں۔
اگر آپ اس بارے میں مزید جاننا چاہتے ہیں کہ خُدا ہمیں آرام، سکون اور شفا کیسے دیتے ہیں، تو براہ کرم اس کاغذ کی پشت پر دی گئی معلومات پر ہم سے رابطہ کریں۔
Copyright © 2023 by Sharing Hope
Publications. اس کام کو غیر تجارتی مقاصد کےلیے بغیر اجازت پرنٹ اور شیئر کیا جا سکتا ہے۔حوالہ جات مقدس بائبل کے نظرثانی شدہ ترجمہ سے لئے گئے ہیں۔ حق اشاعت پاکستان بائبل سوسائٹی © 1970، 2010 کی اجازت سے استعمال کیا گیا۔ جملہ حقوق محفوظ ہیں۔
ہمارے اطلاع نامہ کے لئے سائن اپ کریں
نئی مطبوعات کے دستیاب ہونے پرآپ پہلے جاننے والے بنیں!
