
اپنے لیے کیسے سوچیں
خلاصہ
خُدا کےنبیوں نےایک خطرناک مذہبی طاقت کے بارے پہلے ہی بتا دیا تھا جسے ایک علامتی کوڈ "بابل" کے نام سےبیان کیا گیا ہے۔ نبوت کے مطابق، یہ طاقت ہم پر جبر کی کوشش کرے گی اور ہمیں جھوٹی عبادت کی جانب ورغلائے گی۔ محافظت کی تلاش کے قابل ہونے کا واحد راستہ اپنے طور سے سوچنے اور خُدا کے نازل کردہ کلام کی سختی سے اطاعت کرنے میں ہے۔ یہ کتابچہ ہمیں بتاتا ہے کہ اپنے ذہن کا استعمال کس طرح کیا جائے تاکہ ہم عالمی بحران کے وقت میں عقل مند، متفکر ایمان دار بن سکیں۔
خلاصہ
Tract
ناشر
Sharing Hope Publications
میں دستیاب
47 زبانیں
صفحات
6
ہم ابھی ایک طویل سفر کے بعد گنونگ داتوک کی چوٹی پر پہنچے تھے۔ میں اپنے نئے دوست ایڈزاک کے ساتھ منظرسے لطف اندوز ہونے کے لیے بیٹھ گیا۔ کچھ ہی دیر میں ہماری گفتگو کا رخ مذہبی موضوعات کی طرف مڑ گیا۔
”میں ایک آزاد خیال ہوں“ ایڈزاک نے دعوی کیا۔ ”دنیا کے بارے میں میری ایک اپنی رائے ہے۔“
”اچھا“ میں نےجواب دیا۔ ”میں نے سنا ہے کہ ملائشیا کے بہت سے نوجوان اپنی آزاد خیالی کے لئے پہچانےجاتے ہیں۔“
ایڈزاک ہنسا۔ ”ہمیں خود اپنے لئے سوچنا ہوگاورنہ بہت الجھن ہے جو تمہیں پاگل کردے گی۔“
”لیکن جب آپ گھرجائیں گےتو کیا ہوگا؟“ میں نے پوچھا۔ ”یہاں ملائیشیا میں بہت سے نوجوان اپنے آپ کو آزاد خیال تصورکر تے ہیں لیکن گھر میں آن سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ اسلامی یا بدھ مت کی رسومات میں شرکت کریں۔ آپ اپنےوالدین کوکیا بتاتے ہیں؟“
”میں انہیں کچھ نہیں بتاتا“، اڈزاک نے جواب دیا۔ ”میں صرف ان کے ساتھ اتفاق کرتا ہوں جووہ چاہتے ہیں۔ میں آزادانہ سوچ سکتا ہوں، لیکن مجھے اسے خود تک محدود رکھنا چاہئے۔“
کیا آزاد خیالی اہم ہے؟
دنیا کے بعض حصوں میں، غلط عقیدہ رکھنے سے آپ کو آپ کی برادری سے بے دخل، ملازمت سے برخاست، یہاں تک کہ قتل بھی کیا جا سکتا ہے۔ اپنے لیے سوچنا خطرناک ہو سکتا ہے۔ لیکن کیا اہم ہے؟
ہماری دنیا اچھے اور برے خیالات سے بھری پڑی ہے۔ اچھے خیالات کو بُرے خیالات سے جدا کرنے کا ایک اہم طریقہ ان کےمتعلق سوچنا اور بات کرنا ہے۔ اگرآپ کوئی مہنگی چیز خریدتے ہیں جیسے -سونا، زعفران، یا آئی فون -تو آپ صرف اس کی قیمت اداکر کے اسے گھرنہیں لے جائیں گے۔ بلکہ آپ اس کا معائنہ کریں گے اور مد مقابل مصنوعات سے اس کا موازنہ کریں گے تاکہ یہ یقین ہو جائے کہ آپ کو واقعی بہترین معیار ملا ہے۔ خیالات کے ساتھ بھی اسی طرح کا سلوک کیا جانا چاہئے۔
دنیا میں بہت زیاد ہ الجھن ہے، اوریہ بدتر ہوجاتی ہے جب لوگ اپنے الجھے ہوئے خیالات کو اپنے معاشرے پرمسلط کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ میں آپ کو ایک اہم پیشن گوئی کے بارے میں بتاتا ہوں۔ ایک بہت پرانی کتاب میں جو”یسوع مسیح کا مکاشفہ" کہلاتی ہے،ایک پیشین گوئی ان لوگوں کے بارے میں بتاتی ہے جواپنے الجھے ہوئے مذہبی خیالات کودوسروں پرمسلط کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ اس کتاب میں لکھاہے، "وہ بڑا شہر بابل گِر پڑا جِس نے اپنی حرام کاری کی غضب ناک مَے تمام قَوموں کو پِلائی ہے۔"(مکاشفہ8:14 )
ان علامتی الفاظ کو سمجھنا مشکل نہیں ہے۔ بابل ایک مشہورقدیم شہرتھا لیکن اس کے نام کا مطلب ہے "ابتری۔" یہ شہر “گر گیا“ہے، اس لیے نہیں کہ وہ الجھن میں ہے بلکہ اس لیے کہ وہ اپنی الجھنوں کو پیچھے نہیں چھوڑنا چاھتا۔ وہ قوموں کو اپنے روحانی زناکاری میں شامل ہونے کے لیے مائل کرتا ہے— جو کہ جھوٹی اور سچی عبادت کو ملا کر خدا کے ساتھ دھوکہ کرنا ہے۔ ان باطل خیالات کو معمول بنا کر قبول کیا جاتا ہے۔ "بابل" کے بارے میں یہ پیشینگوئی دنیا کی ایک روحانی ہستی کی طرف اشارہ کرتی ہے جو نہ صرف روحانی خرابی کو معمول بناتی ہے بلکہ آخرکار اسے سچائی کو ماننے والوں پر مسلط کرنے کی کوشش کرے گی۔
یسوع مسیح کے مکاشفہ کی پیشین گوئی ہے کہ یہ سب ہمارے دنوں میں ہوگا۔ ہو سکتا ہے آپ نے پہلے ہی ایسا ہوتا دیکھا ہوگا۔ کیا ایسے لوگ ہیں جو غلط نظریات کے ساتھ خُدا کی نمائندگی کرتے ہیں؟ کیا آپ نے اپنے ضمیر میں بے چینی محسوس کی ہے؟ جی ہاں، اسی لیے آزاد خیالی ضروری ہے۔
اپنے لیے کیسے سوچیں
زیادہ تر لوگ اپنی برادری کے مذہب کی پیروی کرنے پر راضی ہیں۔ وہ اپنے عقائد کے ذریعے نہیں سوچتے۔ وہ ایسی مذہبی روایات کی پیروی کرتے ہیں جو بے تکی ہیں یا بہتری کی بجائے نقصان کا باعث بنتی ہیں۔ بعض اوقات، حتیٰ کہ مذہبی رہنما جنہیں ہم کو خُدا کی راہ دکھانی چاہئے، خود ہی بدعنوانی سے بھرے ہوتے ہیں۔
ہم سچائی کیسے تلاش کر سکتے ہیں؟ میری صلاح ہے کہ ہم انبیاء پر بھروسہ کریں۔ کیوں؟ اس کی تین وجوہات ہیں:
١۔ انبیاءاکرام مستقبل کے بارے میں حیرت انگیز آگہی رکھتے ہیں۔ دانیال نبی نے یورپ کے عروج کی پیشین گوئی کی تھی کہ وہ دنیا کو نوآبادیاتی بنانے کی تاریخی حیثیت کا حامل ہوگا۔ یسوع مسیح (بالمعروف یسوع المسیح) نے 70 عیسوی میں یروشلم کی بربادی کی پیشینگوئی کی تھی۔ حضرت موسی علیہ اسلام نے اسماعیل علیہ اسلام کی آخری وقت تک کی تاریخ کی پیشین گوئی کی تھی۔
٢۔ انبیاءا کرام صحت کے بارے میں ایک حیرت انگیز سائنسی علم فراہم کرتے ہیں۔ موسیٰ علیہ اسلام نے تقریباً 3,500 سال قبل، بیماری کی صورت میں علیحدگی، غلاضت کو صحت کے اصولوں مطابق ٹھکانے لگا نے اور جراثیم کشی کے اصولوں کی وضاحت کی۔ اس نے تخلیقی جانوروں کو پاک اور ناپاک میں تقسیم کیا۔ اور اُس نے ہمیں بتایا کہ جب ہم حلال گوشت کھاتے ہیں تو خون یا چربی نہ کھائیں۔ یہاں تک کہ آج بھی جو لوگ اُسکےغذائی اور حفظان صحت کے قوانین پرعمل کرتے ہیں وہ عام لوگوں کے مقابلے میں ۱۵ سال زیادہ زندہ رہتے ہیں۔
۳۔ خُدا ان مومنوں کی دعاؤں کا جواب دیتے ہیں جو اس پر بھروسہ رکھتے ہیں اور جو اس کے نبیوں پر یقین کرتے ہیں۔
انبیاءاکرام کی تحریریں رہنمائی سے بھری ہوئی ہیں -لیکن ان سے فائدہ اٹھانے کے لیےہمیں تنقیدی انداز میں سوچنا ہوگا تاکہ اپنے عقائد کو جانچ سکیں اور اپنے ایمان کے ثبوت کو پرکھ سکیں۔ غور و فکرسچے مذہب کا ایک اہم حصہ ہے۔
جب ہم کسی غلطی کی تفتیش کرتے ہیں تو کیا ہوتا ہے؟ شروع میں یہ سچ لگ سکتاہے۔ لیکن جیسے ہی ہم ثبوت تلاش کرتے ہیں تو ہم خیال کے ساتھ مسائل کو دیکھنا شروع کرتے ہیں۔
سچائی اس کے بالکل برعکس ہے۔ جب اسے احتیاط سے جانچا جائے تو یہ کبھی بھی کچھ نہیں کھوتی۔ ہم جتنی زیادہ تفتیش کریں گے، سچائی اتنی ہی زیادہ گہری نظر آئے گی۔
مومنوں کو دنیا میں سب سے زیادہ عقلمند ہونا چاہئے کیونکہ خدا ہمیں حکمت کی راہ پر چلاتا ہے۔ اگر آپ اپنے آپ کو ایسی حالت میں پاتے ہیں جہاں آپ کو آزادانہ سوچنے یا سوال کرنے کی اجازت نہیں ہے، تو یہ خُدا کی طرف سے نہیں ہے وہ ہمیں نزدیک سے تحقیق کرنے کی دعوت دیتا ہے۔ کیونکہ سچائی اتنی طاقتور ہوتی ہے کہ وہ تفتیش میں بھی ثابت قدم رہ سکے۔ لیکن بابل آپ کو باطل کی طرف مائل کرتا ہے اور فکری کوشش کے دروازے بند کر کے آپ کو وہاں رکھتا ہے۔
اگر آپ اتنے الجھے ہوئے ہیں کہ آپ کو لگتا ہے کہ آپ بابل میں ہیں تواُس سے باہرنکل آئیں! خدا کی حکمت کے راستے کو اپنائیں۔ اپنےلیے سوچیں اور خود سے گہرے سوالات پوچھیں۔ آپ نا امید نہیں ہوں گے۔
کیا آپ مستقبل کے بارے میں مزید جاننا چاہیں گے جیسا یسوع المسیح کے مکاشفہ میں منکشف ہوا ہے؟ براہ کرم اس کاغذ کی پشت پر دی گئی معلومات پر ہم سے رابطہ کریں۔
Copyright © 2023 by Sharing Hope Publications. اس کام کو غیر تجارتی مقاصد کےلیے بغیر اجازت پرنٹ اور شیئر کیا جا سکتا ہے۔حوالہ جات مقدس بائبل کے نظرثانی شدہ ترجمہ سے لئے گئے ہیں۔ حق اشاعت پاکستان بائبل سوسائٹی © 1970، 2010 کی اجازت سے استعمال کیا گیا۔ جملہ حقوق محفوظ ہیں۔ہمارے اطلاع نامہ کے لئے سائن اپ کریں
نئی مطبوعات کے دستیاب ہونے پرآپ پہلے جاننے والے بنیں!
