رحم کی آرزو

رحم کی آرزو

خلاصہ

خُدا کا رحم کیسا نظر آتا ہے؟ کیا وہ صرف یہ کہتا ہےکہ، "میں تمہیں معاف کرتا ہوں" یا وہ ہمارے شرمناک اندراج کوصاف کرنے کے لئے کوئی عوضی مہیا کرتا ہے؟ یہ کتابچہ متبادل (عوضی) قربانی کی ضرورت اور اس کے معنی کی وضاحت میں مدد کےلئے ایک مقامی کہانی کا اشتراک کرتا ہے۔ قارئین کو یہ جان کر امید ملے گی کہ ان کے گناہ معاف اور اُن کی شرمندگی دُور ہو سکتی ہے۔

خلاصہ

Tract

ناشر

Sharing Hope Publications

میں دستیاب

47 زبانیں

صفحات

6

ڈاون لوڈ کریں

فاطمہ عید الاضحی کے لیے بالکل اکیلی تھی اور یہ تنہائی اس کی برداشت سے زیادہ تھی ۔ پر اس تنہائی کی ساری غلطی اِس کی اپنی تھی۔ُ کیاایسا نہیں تھا؟

فاطمہ کو یاد آیا کہ احمد سے شادی کرنے کے حوالہ سے اس نے اپنے باپ سے کس قدر شدید بحث کی تھی۔ وہ جوان تھی اور اُسے محبت ہو گئی تھی۔ اس کا باپ نہ کیسے کہہ سکتا تھا؟ جب اس نے بھاگ کر احمد سے شادی کر لی، تواس کے باپ نے کہا تھا کہ اسے پھرکبھی واپس نہیں آنا چاہیے۔

اس نے سوچا کہ احمد سے محبت کی وجہ سے وہ شرمندگی برداشت کرپائے گی۔ لیکن جلد ہی اسے تسلیم کرنا پڑا کہ اس کا باپ صحیح تھا۔ احمد وہ شخص نہیں تھا جس کے متعلق اسے لگا کہ وہ اس کی محبت میں گرفتار ہو گئی تھی کیونکہ اس نے اسے کسی دوسری عورت کی خاطر چھوڑ دیا۔

فاطمہ کو اپنے لئے شرمندگی محسوس ہوئی۔ اسے یقین تھا کہ اُس کےساتھ انصاف ہوا ہے اور وہ اپنے کیےکاحساب چکا رہی ہے۔ وہ انصاف کو اچھی طرح سے سمجھ رہی تھی۔ لیکن اس کا دل رحم کے لیے کتنا ترس رہا تھا!

بڑا مہربان اور بڑا رحیم

اگر ہم دیانتداری سےدیکھیں، تو ہم سب نےغلطیاں کی ہیں اور حکمت کی آواز کو نظر انداز کیا ہے۔ ہم نے دوسروں کوناراض کیا ہے۔ دوسروں نے ہمیں ناراض کیا ہے۔ ہماری برادریاں ایسےلوگوں پر مشتمل ہیں جوغلطیاں کرتے ہیں۔ مگر ایک دوسرے کو اور خود کو معاف کرنا کتنا مشکل ہے!

کیا ہماری غلطیوں کےلئے کوئی رحم کی گنجائش ہے؟

ذرا سوچئے کہ آپ نے کتنی بار یہ سادہ جملہ ”بسم اللہ الرحمن الرحیم“—”اللہ تعالیٰ کے نام سے، جو نہایت مہربان اور بڑارحیم ہے“ دہرایا ہے۔ رحم میں خاص بات کیا ہے ؟

شایدُُ اس کی وجہ یہ ہے کہ ہماری برادریوں اور ہمارے اپنے دلوں کو رحم کی بہت ضرورت ہے۔

رحم کرنا: بہتر راستہ

کچھ سال پہلے, عبدالرحمٰن نامی شخص نے اپنے پڑوسی کریم سے لڑائی کر کے اسے قتل کر دیا۔ مصر کے اس چھوٹے سے گاؤں میں دونوں خاندانوں کیلئے زندگی تھم سی گئی۔ کریم کے اہل خانہ نے بدلہ لینے کی کوشش کی، جبکہ عبدالرحمٰن کے اہل خانہ نے خوف سے اسے بچانے کی کوشش کی۔ عبدالرحمٰن نہیں چاہتا تھا کہ انتقام کا چکر جاری رہے۔ اس نے گاؤں کے رہنماؤں سے مشورت کے لئے کہا، اور انہوں نے موت کے کفن کی رسم کی سفارش کی۔

عبدالرحمٰن اپنا سفید کفن لایا اور اس کے اوپر چھری رکھی۔ جیساکہ سارا گاؤں دیکھ رہا تھا، وہ بازارمیں کریم کے خاندان سے ملنے چلا گیا۔ عبدالرحمٰن مقتول کے بھائی حبیب کے سامنے گھٹنے نشین ہوا اور کفن اور چھری پیش کر دی۔ اس طرح اُس نے رحم اور مفاہمت کی درخواست کی۔

حبیب نے چھری عبدالرحمٰن کی گردن پر رکھ دی۔ گاؤں کے رہنما ایک بھیڑ لے کر آئے، اور حبیب کو اپنا فیصلہ کرنا پڑا: رحم، یا بدلہ؟ جب اس نے عبدالرحمٰن کی گردن پر چھری رکھی تو اس نے اپنےاعمال سے یہ ظاہر کیا، ”اب تم میرے اختیار میں ہو۔ سب کی آنکھیں یہ دیکھ رہی ہیں۔ سب جانتے ہیں کہ مجھے تمہیں مارنے کا حق ہے اور میں ایسا کرنے کی صلاحیت بھی رکھتا ہوں ہے۔ لیکن میں رحم اور مفاہمت کا انتخاب کرتا ہوں۔ میں خون خرابہ ختم کر دوں گا ۔“

وہ عبدالرحمٰن سے پیچھے ہٹا اور اس کی جگہ بھیڑ کو ذبح کر دیا۔ جب درد، غصے اور انصاف کی شدت کو جانور کی قربانی نے جذب کر لیا تو حبیب نےعبدالرحمٰن کو گلے لگا لیا۔دونوں خاندانوں کےدرمیان امن بحال ہوگیا۔

اگر انسان انصاف کو رحم کے ساتھ جوڑنے کے طریقے تلاش کر سکتے ہیں تو یقیناًخُدا بھی ایسا کر سکتا ہے!

یسوع المسیح: خدا کی طرف سے رحمت

ہم خدا کی رحمت کے بارے میں کہاں سے سیکھ سکتے ہیں؟ یہ بہت آسان ہے۔ آپ نے شاید سنا ہوگا کہ یسوع مسیح (جسے عیسیٰ المسیح بھی کہا جاتا ہے) کو خدا کی طرف سے ”رحمت“ کہا جاتا ہے۔اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ مکمل طور پر مجسم رحم ہے۔ اناجیل میں جسے خوشخبری بھی کہا جاتا ہے اس کا طریقہ اور تعلیمات معافی اور مفاہمت کا راستہ ہے۔

یسُوع مسیح ہی ایسا شاندار کردار ادا کر سکتا ہے کیونکہ صرف وہی اکیلاہے جواللہ تعالیٰ کی طرف سے بھیجا گیا ہے جو مکمل طور پر بے گناہ ہے۔ ہر نبی اور پیغمبر کو اپنی غلطیوں کے لیے معافی کی ضرورت تھی، لیکن یسوع المسیح کو نہیں۔ اسے قیامت کا انتظار کرنے کے بجائے براہ راست جنت میں لے جایا گیا کیونکہ اس نے کبھی کوئی خطا نہیں کی—ایک چھوٹی سی بھی نہیں۔

اسی سبب سے وہ خدا کی طرف سے رحمت کہلاتا ہے۔ اس نے ہمیں خالص رحم کا نمونہ دیا اورسکھایا کہ کس طرح خُدا کی رحمت حاصل کرنی ہے۔

یسوع المسیح میری مدد کیسے کرسکتے ہیں؟

یہ درج ہے کہ یوحنا بپتسمہ دینے والے (جسے یحییٰ بھی کہا جاتا ہے) نے یسوع مسیح کو ایک ہجوم میں دیکھا اور خدا کی طرف سے الہام کے تحت پکار اٹھا،”دیکھو! یہ خُدا کا برہ ہے جو دُنیا کا گناہ اُٹھا لے جاتا ہے!“ (یوحنا کی انجیل 29:1)۔ یسُوع المسیح بھیڑ کی مانند ہے جس نے عبدالرحمٰن کے لیے مفاہمتکا راستہ تیار کیا۔

اگر ہمیں اپنی خطاؤں کی سزا ملتی ہے تو یہ انصاف ہے۔ لیکن یسوع المسیح نےجو مکمل طور پر بے گناہ تھا، رضاکارانہ طور پر ہماری خطاؤں کی ذمہ داری قبول کی۔ اُسےکسی نے مجبورنہیں کیا۔ انصاف کے تقاضے پورے کرنے کے لیے اس نے اپنی رضا سے موت کو اپنے اوپر لے لیا۔ صرف وہی اکیلامکمل طور پر معصوم شخص تھا جو کبھی جیا، اور پھر بھی اس نےعبدالرحمن کی کہانی میں اپنے ساتھ بھیڑ جیسا سلوک ہونے کی اجازت دی۔ یہی وجہ ہے کہ، ہمارے لیے دکھ سہنے کے بعد، خُدا نے اسے آسمان پر اٹھا لیا۔

ہوسکتا ہے کہ آپ کی زندگی میں کوئی کشمکش ہو۔ ہو سکتا ہے آپ بھی فاطمہ کی طرح ان کی جانب سے دور پھینک دئے گئے ہوں جن سے آپ محبت کرتے ہوں۔ ہو سکتا ہے کہ آپ کو کسی نے رنج پہنچایا ہو، یا آپ کی ساکھ کو ناروا طور پر نقصان پہنچایا گیا ہو۔ ہوسکتا ہے کہ آپ عبدالرحمٰن کی طرح قصور وار ہوں اور انتقامی کارروائی سے خوفزدہ ہوں۔

یسوع المسیح مدد کرسکتے ہیں۔ آپ بس اس طرح ایک مختصر دعا کر سکتے ہیں:

یا رب، میں اپنے گناہوں کی ہرگز تلافی نہیں کر سکتا۔ لیکن میں جانتا ہوں کہ آپ نے یسوع المسیح کو ہماری جانب اپنی رحمت بنا کر بھیجا ہے۔ اُن نیک اعمال کی بدولت مجھے معاف فرما جو یسوع المسیح نے تمام نسل انسانی کے لیے کئے ہیں۔ یسوع المسیح کے راہ کو سمجھنے میں میری مدد فرمائیں تاکہ میں اپنی زندگی میں آپ کی رحمت کا تجربہ کر سکوں۔ آمین۔

اگر آپ اناجیل کی اپنی کاپی حاصل کرنا چاہتے ہیں، تو براہ کرم اس کاغذ کی پشت پر دی گئی معلومات پر ہم سے رابطہ کریں۔

Copyright © 2023 by Sharing Hope Publications. اس کام کو غیر تجارتی مقاصد کےلیے بغیر اجازت پرنٹ اور شیئر کیا جا سکتا ہے۔حوالہ جات مقدس بائبل کے نظرثانی شدہ ترجمہ سے لئے گئے ہیں۔ حق اشاعت پاکستان بائبل سوسائٹی © 1970، 2010 کی اجازت سے استعمال کیا گیا۔ جملہ حقوق محفوظ ہیں۔

ہمارے اطلاع نامہ کے لئے سائن اپ کریں

نئی مطبوعات کے دستیاب ہونے پرآپ پہلے جاننے والے بنیں!

newsletter-cover