معافی کی تلاش

معافی کی تلاش

خلاصہ

ہم سب زِندگی میں غلطیاں کرتے ہیں۔ ضروری ہے کہ ہمیں کرم کے تیزدھار کاٹنے کا انتظار کرنا چاہئے، یا الٰہی معافی جیسی کوئی چیز ہے؟ یہ کتابچہ یسُوع کی مسرف بیٹے کی تمثیل کا ایک مقامی انداز بیان کرتا ہے، یہ دکھاتے ہوئے کہ خالق خُدا کس طرح گنہگاروں کو کھلے بازوؤں کے ساتھ خوش آمدید کہتا ہے اور گناہ بھری زندگی کو ایک لمحے میں معاف کر سکتا ہے۔

ڈاون لوڈ کریں

پرتاپ ایک امیر زمیندار کا بیٹا تھا۔ وہ ایک بڑے گھر میں رہتے تھے اور ان کے بہت سے نوکرچاکر تھے۔ پرتاپ کو ہمیشہ بہترین کپڑے، کھانا اور تعلیم دستیاب تھی—وہ جانتا تھا کہ اس کے والدین اس سے بہت پیار کرتے ہیں، خاص طور پر اس کا باپ۔

لیکن جیسےجیسے پرتاپ بڑا ہوتا گیا،وہ بدلنے لگا تھا۔ پرانے طور طریقے اب اس کے لیے پرکشش نہیں تھے۔ باپ کا گھر اور اُس کے طور طریقے اب اُسے بوجھ اور قید محسوس ہونے لگے ۔ پرتاپ آزادی کے لیے تڑپ رہا تھا۔

ایک دن پرتاپ نے اپنی ماں سے گزارش کی کہ وہ والد کے پاس اُس کی ایک خصوصی درخواست لے کر جائیں۔ جب اس نے ماں کو بتایا کہ وہ کیا چاہتاہے تو وہ ڈر سے دبک گئی۔ لیکن اس نے اس پر دباؤ ڈالا جب تک کہ وہ پوچھنے پر راضی نہ ہو گئی۔ اس میں کئی روز لگے لیکن آخرکار وہ روتی ہوئی لوٹی۔

” وہ یہ کرے گا،" اس نےاپنے بیٹےکی طرف دیکھنے سے قاصر ہو کر کہا ” وہ ہمارا آدھا مال بیچ کر تمہاری میراث تمہیں دے دےگا۔ لیکن کیوں میرے بیٹے؟ کیوں؟”

پرتاپ کو ندامت کا تھوڑا احساس ہوا، لیکن اس نے پر جوش بھی محسوس کیا۔ اس کا منصوبہ کام کر گیا تھا۔ اسے باپ کی رقم میں سے اپنا حصہ ملے گا تاکہ وہ اپنی مرضی کی زندگی گزار سکے۔

بے فکری کی زِندگی

پرتاپ بڑے شہر میں چلا گیا۔ اس نے ایک مہنگاگھر کرائے پر لیا اور نئے دوست بنانے لگا۔ جلدی ہی وہ ایسی پارٹیاں کر رہا تھا جنہوں نے امیر اورمشہور لوگوں کو اپنی طرف متوجہ کیا۔ اُس نےنئے ماڈل کی کاریں خریدیں، خوبصورت عورتوں کے ساتھ سویا اور مہنگے ریستورانوں میں کھانا کھایا۔ اس کے پاس وہ سب کچھ تھا جو اس نے کبھی چاہا تھا۔

لیکن ایک دن شائد پیسہ ختم ہو گیا۔ شرمندہ ہو کر، اس نے اپنے کچھ نئے دوستوں سے کہا کہ وہ اسے تھوڑا سا قرض دیں، لیکن انہوں نے اچانک کالوں کا جواب دینا بند کر دیا۔ وہ اپنے بل ادا نہیں کر سکتا تھا۔ آخر کار مالک مکان نے اسے بے دخل کر دیا۔ بغیر پیسے اور دوستوں کے وہ کہاں جا سکتا تھا؟

پرتاپ الجھن اور بے چینی سے شہر میں گھومتا رہا۔ جب سورج غروب ہونے لگاتو اسے خوف محسوس ہوا۔ وہ کہاں سوئے گا؟ وہ کیا کھائے گا؟ زندگی میں پہلی بار پرتاپ سڑک پر سویا، اُس کا پیٹ بھوک سے گڑگڑا رہا تھا۔

ندامت کا سامنا

اگلےچند دنوں تک پرتاپ نے شہر میں نوکری حاصل کرنے کی بہت کوشش کی۔ جب وہ چیتھروں میں سڑک پر سوتے ہوئے چیتھڑے ہوا دکھائی دے رہا تھا، اس لیے اسے ایک ریستوران کے مینیجر کے علاوہ کوئی بھی نوکری نہیں دے گا۔ پرتاپ گھنٹوں کام کرتا، کھانے والوں تک کھانا پہنچاتا اور میزیں صاف کرتا۔ اُسے بہت بھوک اور تھکاوٹ محسوس ہوئی۔ اس نے سوچا کہ یہ کیسے ممکن ہے کہ وہ، ایک امیر آدمی کا بیٹا، کھانا پیش کر رہا ہو! جب آخری کھانا کھانے والا ریستوران سے نکلا تو وہ برتن دھونے میں مدد کرنے کچن میں چلا گیا۔ اس نے کچرے کے ڈبے کے پاس ایک پلیٹ دیکھی جس میں آدھی روٹی پڑی تھی۔ اسے اتنی بھوک لگی تھی کہ وہ تقریباًاسے اُٹھانے کے قریب پہنچ گیا۔

مُجھے کیا ہو گیا ہے؟ اُس نے اپنی لعنت ملامت کی۔ یہاں تک کہ میرے باپ کے گھر میں نوکروں کے پاس کھانے کے لیے افراط کی روٹی ہے اور میں یہاں ان گندی بچ جانے والی چیزوں کے لالچ میں!

وہ برتنوں کے ڈھیر کو تکتارہا اور دیر تک سوچتا رہا۔

مجھے معلوم ہے میں کیا کروں گا، اس نے سوچا۔ میں اُٹھ کر اپنےباپ کے پاس جاؤں گا اور اُس سے کہوں گا” اَے باپ! میں آسمان کا اور تیری نظر میں گُنہگار ہوا۔ اب میں اِس لائق نہیں رہا کہ پھر تیرا بیٹا کہلاؤں۔ مُجھے اپنے مزدوروں جیسا کر لے۔ “

ایک بھی برتن دھوئے بغیر، پرتاپ نے ریستوران چھوڑ دیا اور اپنے گھر کا سفر شروع کر دیا۔

گھر واپسی

گھر واپس جاتے ہوئے پرتاپ کے پاس سوچنے کے لیے بہت سی باتیں تھیں۔ جب اس کا باپ اسے دیکھے گا تو کیسا ردعمل ظاہرکرے گا؟ اس نے مشق کی کہ جب وہ پہنچے گا تو کیا کہے گا، لیکن اس سے اسے کچھ بہتر محسوس نہیں ہوا۔ آخر کار، ایک طویل مسافت کے بعد، وہ اپنے والد کا گھر دور ہی دیکھ سکتا تھا۔ وہ آہستہ، آہستہ چلتا ہوا سڑک پر آیا۔

اچانک اُسے ایک پکار سنائی دی۔ اس کا باپ، عام طور پر بہت پرسکون اور باوقار، بھاگا ہوا گھر سے باہر آیا۔ وہ پرتاپ کے پاس آیا اور اسے مضبوطی سے گلے لگا لیا۔ پرتاپ کو لگا جیسے اس کا دل ٹوٹ جائے گا۔

اَے باپ, اُس نےجذباتی ہو کرکہا ” میں نےآپ کے اور خدا کےخلاف گناہ کیا ہے۔ میں اب آپ کا بیٹا بننے کے لائق نہیں رہا.“

ایسے لگا جیسے اُس کے باپ نے ایک لفظ بھی نہ سُنا ہو۔ آنسو اس کے چہرے پر بہہ رہے تھے۔ گہما گہمی کی آواز سن کرگھر کے نوکر بھی دوڑے چلے آئے۔

”فوراً! “ باپ نےاُنکو حکم دیا ” اس کا کمرہ تیار کرو! اس کے لیےنئے کپڑے تیار کرو! ایک دعوت کا اہتمام کرو کیونکہ ہم جشن منائیں گے! میرایہ بیٹا، مردہ تھا اوراب زندہ ہے؛ وہ کھو گیا تھا اور اب مل گیا ہے!”

معافی کی تلاش

یہ کہانی ایک تمثیل پر مبنی ہے جو خداوند یسوع مسیح نے بیان کی ہے کہ ہم کس طرح خالق خدا سے معافی حاصل کرسکتے ہیں۔ جب ہم زندگی میں غلطیاں کرتے ہیں—یہاں تک کہ بہت بڑی بھی—ہم خدا کی طرف اسی طرح لوٹ سکتے ہیں جس طرح پرتاپ اپنے باپ کے پاس واپس آیا تھا۔ ہمیں پیچیدہ رسومات یا قربانیاں پیش کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ خدا کھلے بازوؤں سے ہمارا انتظار کر رہا ہے۔ یہ دل کی تبدیلی ہے جسے وہ سب سے زیادہ اہمیت دیتا ہے۔ ہمیں عاجزی کے ساتھ اپنے گناہوں کا اقرار کرنا چاہیے، سچ مچ پشیمان ہونا چاہیے، اور معافی مانگنی چاہیے۔ کیا آپ خدا کی بخشش کے الہی معجزے کا تجربہ کرنا چاہیں گے؟ آپ آج، ابھی، ہر غلط کام سے جو کبھی سر زد ہوا ہے پاک ہو سکتے ہیں۔ آپ اس طرح دُعا کر سکتے ہیں:

اے خدا، میں اپنے گناہوں کے لیے بہت پشیمان ہوں۔ خداوند یسوع مسیح کی عظیم قربانی کے وسیلے براہِ کرم مجھے معاف کر دے اور مجھے ہر طرح کی ناپاکی سے پاک کر دے۔ مجھے باطن سے ایک نیا انسان بنا دے۔ آمین۔

اگر آپ خداوند یسوع مسیح کی تعلیمات کے بارے میں مزید جاننا چاہتے ہیں تو، براہ کرم اس کاغذ کی پشت پر دی گئی معلومات پر ہم سے رابطہ کریں۔


Copyright © 2023 by Sharing Hope Publications. اس کام کو غیر تجارتی مقاصد کےلیے بغیر اجازت پرنٹ اور شیئر کیا جا سکتا ہے۔

ہمارے اطلاع نامہ کے لئے سائن اپ کریں

نئی مطبوعات کے دستیاب ہونے پرآپ پہلے جاننے والے بنیں!

newsletter-cover